لاہور: 17 مارچ: پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے اسلامی جمعیت طلبہ کی جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن پریس کانفرنس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ خود مجرموں کی سرپرستی کر رہی ہے جس کی حالیہ مثال ہے کہ جمیعت کا کارکن یا سرکاری چوری کی وارداتوں میں پکڑا گیا ہے اور اس کے خلاف تھانہ مسلم ٹاون میں ایف آئی آر درج ہے۔ جمعیت کے طلبہ اور موجودہ کارکن ناجائز طور پر کمروں پر قابض ہیں جن کہ وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جمعیت کے کارکن جو یونیورسٹی سے نکالے گئے ہیں وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوچ اور مسلسل وارننگ کے بعد نکالے گئے ہیں۔ بک فیئر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی بک فیئر کے انعقاد کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے اور اس ک انعقاد یونیورسٹی انتظامیہ خود ہی کرے گی۔ جمعیت نے بسوں کی تعداد کم بتائی ہے ۔ جن کی کل تعداد 53 ہے جس میں اگلے ماہ دو مزید ہینو بسیں شامل ہو رہی ہیں۔ تحقیقی امور پر وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔
شکریہ ایکسپریس
Comments
Post new comment