پاکستان کے معدنی وسائل


Mineral Resources
موجودہ دور میں معدنیات كی اہمیت محتاج بیان نہیں۔ جن كے پاس معدنی ذخائر كی كثرت ہے وہاں كی معیشت بھی كافی مستحكم ہے۔ صنعتی ترقی كا انحصار بڑی حد تك معدنی وسائل كی موجودگی پر ہی ہے۔ بلاشبہ امریكا اور یورپی ممالك كی صنعتی ترقی میں وہاں كے معدنی وسائل نے اہم كردار ادا كیا ہے۔

قیام پاكستان كے وقت معدنی دولت سے مالا مال علاقے بھارت كے حصہ میں آئے۔ پاكستان میں بھی اگرچہ ان وسائل كی كمی نہیں تھی لیكن اس وقت تك ان سے پوری طرح استفادہ نہیں كیا گیا تھا۔ بعد میں بھی كئی مشكلات اور مجبوریاں ان وسائل كو دریافت كرنے كی راہ میں حائل رہی ہیں۔ ہر ملك كی زراعتی اور صنعتی ترقی اور نقل و حمل كے ذرائع كی سہولتوں كا دار و مدار بڑی حد تك ایسی اہم معدنیات مثلاً كوئلہ، پٹرول اور لوہے كی فراہمی پر ہے۔ لیكن پاكستان میں ان تینوں معدنیات كی كمی ہے۔ چنانچہ قومی ضرورت كا صرف تینتیس فیصد كوئلہ اور بیس فیصد پٹرول ملكی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے جب كہ باقی مقدر درآمد كرنا پڑتی ہے۔ اس طرح ان بنیادی معدنیات كی درآمد پر كثیر زرمبادلہ خرچ ہو جاتا ہے۔

ملك كی معاشی ترقی اور خوشحالی كے لیے ضروری ہے كہ اپنے تمام وسائل سے پوری طرح استفادہ كیا جائے۔ نئے معدنی وسائل كی تلاش میں ہر طرح سے كوششیں تیزی سے جاری رہنی چاہئیں۔ تیل كی تلاش كے لیے حكومت نے متعدد غیر ملكی فرموں سے معاہدے كر ركھے ہیں اور اس سلسلہ میں تیزی سے كام ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس بات كا قوی امكان ہے كہ پاكستان كے پہاڑوں اور زمین كے نیچے دفن شدہ معدنی خزانوں كو قومی مقاصد كی تكمیل میں بروئے كار لایا جا سكے۔ ذیل میں پاكستان میں پائی جانے والی معدنیات كا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے:

1۔ كوئلہ:

صنعتی شعبہ میں كوئلہ كو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایندھن كا كام بھی دیتا ہے اور طاقت كا سرچشمہ بھی ہے۔ ہمارا ملك كوئلہ كے سلسلہ میں خود كفیل نہیں۔ علاوہ ازیں جو تھوڑا بہت كوئلہ كانوں سے دستیاب بھی ہوتا ہے وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ لہٰذا كثیر زرمبادلہ خرچ كر كے كوئلہ دوسرے ممالك سے درآمد كرنا پڑتا ہے۔ پاكستان میں كوئلہ كے ذخائر پنجاب میں ڈنڈوت اور مكڑوال، بلوچستان میں ڈیگاری، شریگ اور سوئر كے مقام پر پائے جاتے ہیں۔ ٹھٹھہ اور منارا كے علاوہ حال ہی میں تھرپاركر میں كوئلے كے ذخائر ملے ہیں۔

2۔ پٹرول:

پٹرول كو ذرائع نقل و حركت میں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ مزید برآں پٹرول سے متعدد پٹرولیم مصنوعات تیار كی جاتی ہیں۔ پاكستان میں پٹرول كی پیداوار بہت كم ہے۔ تاہم جہلم، راولپنڈی، میانوالی اور اٹك كے اضلاع میں تیل كے چند كنوئیں موجود ہیں۔ تیل كی زیادہ مقدار درآمدكرنا پڑتی ہے۔ تیل كے ذخائر دریافت كرنے كے لیے حكومت نے بیرونی ممالك كی مخالف كمپنیوں سے معاہدات كر ركھے ہیں جو تیل كی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ابتدائی جائزہ كے مطابق نتائج حوصلہ افزائ ہیں۔ حال ہی میں گوجر خاں كے قریب سے تیل اور گیس كا اہم ذخیرہ ملا ہے۔ اس وقت متعدد ممالك كے تعاون سے پاكستان میں تیل كی تلاش كا سلسلہ جاری ہے، جس میں حوصلہ افزائ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

نئے ذخائر:

حال ہی میں ضلع ڈیرہ غازی خان میں ڈھوڈك كے مقام پر اعلیٰ قسم كے تیل اور گیس كے وسیع ذخائر كا پتا چلا ہے۔ تیل كے ذخائر كا اندازہ بیس كروڑ بیرل ہے۔ جب كہ نو دریافت گیس كی مقدار سوئی كے مقام پر ملنے والی گیس سے نصف ہے۔ تاہم ابھی نئے كنووٕں كی تیاری میں وقت لگے گا۔

3۔ لوہا:

جدید مشینی دور میں كوئلہ اور پٹرول كی طرح لوہے كو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے ملك میں لوہے كی پیداوار بہت كم ہے۔ 1965-66ئ كے درمیان عرصہ میں اس كی پیداوار چھبیس ہزار پانچ سو ستانوے ٹن تھی۔ ظاہر ہے كہ یہ تعداد ملكی صنعتوں كی ضروریات كے مقابلہ میں بہت كم ہے۔ چنانچہ ملكی ضروریات كا اسی فیصد فولاد باہر سے درآمد كرنا پڑتا ہے۔ پاكستان میں لوہا سرگودھا، میانوالی، مردان، چترال اور كوئٹہ كے مقام پر پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ لوہا معیاری نہیں اس لیے صنعتوں میں استعمال كے ناقابل ہے۔

4۔ گندھك:

كیمیائی صنعت میں گندھك بہت كار آمد ہے۔ پاكستان میں گندھك كی زیادہ مقدار بلوچستان میں پائی جاتی ہے اور اسے صاف كرنے كے كارخانے كراچی اور كوئٹہ میں تعمیر كیے گئے ہیں۔ بلوچستان كے علاوہ گندھك قلات، خیر پور، مردان اور جیكب آباد میں بھی پائی جاتی ہے۔ واضح ہو كہ گندھك سوئی گیس سے بھی حاصل كی جاتی ہے۔

5۔ نمك:

پاكستان میں نمك كے بڑے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ بلاشبہ ہمارا ملك نہ صرف نمك كے معاملہ میں خود كفیل ہے بلكہ اس كی برآمد سے كافی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ نمك كے ذخائر كھیوڑہ اور كوہاٹ كے مقام پر دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں كالا باغ اور تھرپاركر میں نمك كی كانیں موجود ہیں۔

6۔ كرومائیٹ :

كرومائیٹ ایك ایسی دھات ہے جو متعدد دوسری دھاتوں كی تیاری میں كام آتی ہے۔ علاوہ بریں یہ اسلحہ سازی اور چمڑا رنگنے كے بھی كام آتی ہے۔ ہندو باغ اور بلوچستان كے ضلع چاغی میں كرومائیٹ بڑی تعداد میں دستیاب ہے۔ اس كے ذخائر وزیرستان اور وادی پشین میں پائے جاتے ہیں۔

7 ۔ جپسم:

جپسم ایك ایسی قسم كا پتھر ہے جو پلاسٹر آف پیرس اور رنگ و روغن وغیرہ كی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس كے علاوہ سیمنٹ بنانے میں بھی جپسم استعمال ہوتا ہے۔ پاكستان میں جپسم ملكی ضروریات كے لیے كافی مقدار میں دستیاب ہے اور یہ پنجاب، بلوچستان اور قلات كے بعض علاقوں میں ملتا ہے۔

8۔ چونے كا پتھر اور دیگر معدنیات:

چونے كا پتھرسیمنٹ بنانے، عمارات اور سڑكوں كی تعمیر اور شیشہ كی صنعت میں كام آتا ہے۔ یہ كوہاٹ، كراچی، سندھ اور كالا باغ میں دستیاب ہے۔

مندرجہ بالا معدنیات كے علاوہ پاكستان میں كم اہم معدنیات بھی ملكی ضروریات كے لیے كافی مقدار میں موجود ہیں۔ مثلاً سرمہ چترال اور پشاور كے مقام پر دستیاب ہے۔ سوڈا اور پوٹاش كالا باغ اور خیر پور كے مقامات پر ملتی ہے یہ كھاد بنانے كے كام آتا ہے۔ كھریا مٹی بھی ملك كے بیشتر علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

9۔ قدرتی گیس:

1952ئ میں بلوچستان میں سوئی كے مقام پر تیل كے كنووٕں كی تلاش كے دوران قدرتی گیس كا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا۔ جس كی مقدار تقریباً ساٹھ كھرب مكعب فٹ بتائی جاتی ہے۔ امید كی جاتی ہے كہ گیس كی ترسیل سے كوئلہ اور تیل كی كمی ایك حد تك پوری ہو جائے گی۔ پاكستان كے بڑے بڑے شہروں میں گھریلو ضروریات كے لیے گیس كی سپلائی جاری ہے۔ اس طرح گھریلو ضروریات كے لیے ایندھن كی كمی كا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صنعتوں میں بھی سوئی گیس سے استفادہ كیا جا رہا ہے۔ 1955ئ میں سوئی گیس ٹرانسمیشن كمپنی قائم كی گئی، جس كے ذمہ مختلف مقامات تك گیس كی بہم رسانی كا كام تھا۔ یہ كمپنی اپنے فرائض بحسن و خوبی سر انجام دے رہی ہے۔ منصوبہ كے مطابق كراچی سے پشاور تك گیس كی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے اور اس منصوبہ كا بڑا حصہ پایہ تكمیل كو پہنچ چكا ہے۔

پیر كوہ كے مقام پر گیس كا ایك اور ذخیرہ دریافت ہوا جو دنیا كے 25 بڑے ذخائر میں سے ایك ہے۔ پاكستان اب گیس سیال شكل یا پائپ كے ذریعے برآمد كرنے كی پوزیشن میں ہے۔ حال ہی میں گوجر خاں كے قریب بھی گیس كا ایك بڑا ذخیرہ ملا ہے۔ 1998ئ میں صوبہ سندھ میں كراچی سے 250كلو میٹر دور قادر پور كے نزدیك گیس كے بڑے ذخائر ملے۔ ان سے استفادہ كی صورت میں امید ہے كہ گیس درآمد كرنے كی ضرورت نہیں رہے گی۔ دریافت ہونے والی گیس كی مقدار 350بلین كیوبك فٹ ہو گی۔ بلكہ اس سے بھی زیادہ ہو سكتی ہے۔ یہ ذخیرہ كم و بیش سوئی كے ذخیرے جتنا بڑا ہے۔ 1999ئ سے پیداوار شروع ہونے كی توقع ہے جب كہ مزید ذخائر دریافت ہونے كا امكان بھی ہے۔