قصور سکول تعمیر میں ناقص میٹریل کا استعمال

قصور: 23 اپریل: ضلع قصور میں اہم حکومتی شخصیات کے انتخابی حلقوں میں تیس کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے زیر تعمیر سرکاری سکولوں کی عمارتیں دوران تعمیر ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ اس امر کا انشاف گزشتہ روز اس وقت ہوا جب ڈی سی او قصور ملک جہانزیب اعوان نے محکمہ تعلیم اور تعمیراتی اداروں کے سربراہوں کے ہمراہ ان عمارتوں کا اچانک معائنہ کیا۔ ڈی سی او قصور نے عمارتوں میں ناقص میٹریل استعمال کرنے اور متعلقہ افسران کی دانستہ غفلت پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کا مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے کے احکامات صادر کر دیئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ڈی سی او قصور نے پی پی 182 اور پی پی 184 میں زیر تعمیر سکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیا تو ان میں ایک بھی ایسی عمارت نہیں تھی جس میں معیاری میٹریل استعمال کیا گیا ہو بلکہ زیر تعمیر تمام عمارتیں ابھی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ ان عمارتوں میں جگہ جگہ دراڑیں نظر آ رہی تھیں۔ ریت، سیمنٹ اور تیسرے درجے کی اینٹوں کا استعمال جاری تھا جب کہ افتتاح سے قبل ہی ان سکولوں کے نئے دروازے خستہ حالی کا شکار ہو چکے تھے۔ واضح رہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے گاوں میں کچھ عرصہ قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی عمارت کی چھتیں بھی گر چکی ہیں۔ اسی طرح پتوکی کے دیگر دیہی اور شہری علاقوں میں زیر تعمیر عمارتوں کے ساتھ ساتھ تعمیر شدہ عمارتیں اس قابل ہی نہیں تھیں کہ ان کے اندر بچوں کو بٹھانے کا رسک لیا جا سکے۔ دوسری طرف ڈی سی او قصور کی طرف سے کئی افسروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف مقدمات کے حکم کے بعد فوری طور ان افراد کے سیاسی سربراہوں نے انہیں مقدمات سے بچانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔

شکریہ وقت

Add new comment