آئی یو بی کی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کانفرنس میں شرکت

بہاولپور: 30 مئی: اکیسویں صدی میں پاکستانی یونیورسٹیوں کا ملکی معشیت میں کردار کے موضوع پر ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں ایک روزہ قومی کانفرنس اور نمائش کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سمیت ملک کی 30 جامعات نے شرکت کی اور اپنے ہاں جاری معاشی طور پر مفید تحقیقی پروگراموں اور ان سے متعلقہ مصنوعات نمائش کے لئے پیش کیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کی زیر قیادت سینئر محققین اور طلبا نے شرکت کی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا پہلا پراجیکٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار جو کہ خود بائیو کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی کے عالمی سطح کے سائنس دان ہیں اور اپنی فیلڈ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں کا اینٹی فنگل خواص کی حامل چولستانی صحرائی طبی نباتات پر تحقیق کا پراجیکٹ تھا۔ جلدی امراض کا باعث بننے والی کینڈیڈا البیکن کمزور دفاعی نظام رکھنے والے لوگوں کو آسانی سے متاثر کر لیتی ہے جو دنیا میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کے علاج کے لئے کوئی موثر دوا دستیاب نہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار اور ان کی ٹیم کی تحقیق کے دوران چولستان کے چار پودوں میں حیرت انگیز طور پر اینٹی فنگل خصوصیات دریافت کیں جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی اور اعزاز ہے۔ اس دریافت کی وجہ سے اینٹی فنگل دوائی تیار کی جا سکتی ہے جو مارکیٹ میں متعارف کرا کے علاقے کے سماجی اور معاشی حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
کانفرنس میں دوسرا پراجیکٹ یونیورسٹی کے زرعی سائنس دانوں کا خشک سالی کے دوران نائیٹروجن کی مقدار کو کنٹرول کر کے گندم کی پیداوار میں اضافے کا پراجیکٹ تھا۔ ملکی سطح پر عموما اور خطہ بہاولپور میں خصوصا گندم کی پیداوار پانی کی وجہ سے بے حد متاثر ہو رہی ہے۔ اس تحقیق کی بدولت خشک سالی کے دوران بھی گندم کی زائد پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جو بلاشبہ زرعی معشیت میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور مشکل حالات میں بھی زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا تیسرا پراجیکٹ یونیورسٹی انجینئرنگ کالج کے طلبا کی طرف سے بنایا گیا خودکار روبوٹ تھا جو کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت سامنے آنے والی رکاوٹ کا اندازہ لگا کر خود بخود راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یونیورسٹی طلبا کی طرف سے اس طرح کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر عبور اور روبوٹ ٹیکنالوجی میں مہارت کا عملی ثبوت انتہائی قابل ستائش ہے کیونکہ مستقبل میں روبوٹ کی جدید ترین ٹیکنالوجی دنیا بھر میں نہ صرف افرادی قوت کی کمی کی صورت میں بلکہ ہنگامی حالات میں بھی بغیر کسی خطرے کے استعمال کی جا سکتی ہے جو ملکی معیشت میں انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ان تینوں تحقیق پراجیکٹس کی بدولت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا سٹال دن بھر ملک بھر سے آئے ہوئے سائنس دانوں، محققین، میڈیا اور عام افراد کی توجہ کا مرکز رہا۔ گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ نے یونیورسٹی سٹال کے دورے کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جنوبی پنجاب میں اعلی تعلیمی شعبے اور تحقیق میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہے اور خطے کی معاشی خوشحالی کی ضامن ہے۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر جاوید لغاری نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جاری تحقیق کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کو مبارک با دی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سہیل نقوی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے تینوں پراجیکٹس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے سیمینار میں ان کا برملا ذکر کیا اور یونیورسٹی محققین کی کاوشوں کو بے حد سراہا اور صنعتکاروں سے ان تحقیقی منصوبوں پر سرمایہ کاری کی درخواست کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان خاص طور پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سٹال پر تشریف لائے اور پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار سے تینوں پراجیکٹس سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ سینئٹر اویس لغاری ، وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی اور چیمبر آف کامرس کی شخصیات کے علاوہ ملک بھر کی جامعات سے آئے ہوئے سائنس دانوں، محققین اور طلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں یونیورسٹی سٹال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر اصغر ہاشمی، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محمد علی دلانہ ، یونیورسٹی حکام اور طلبا بھی موجود تھے۔

Comments

Post new comment

The content of this field is kept private and will not be shown publicly.
Image CAPTCHA
Enter the characters shown in the image.