افراط آبادی كا مسئلہ


مفہوم:

عام مفہوم كے اعتبار سے كسی ملك كی گنجانی سے مراد وہاں فی مربع میل رہائش پذیر افراد كی تعداد ہے۔ اس طریق كار سے اس بات كا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے، كہ آبادی كا زمین اور دیگر وسائل پر كس قدر دباوٕ ہے۔ اگر افراد كی تعداد زیادہ ہو تو عام طور پر یہ كہہ دیا جاتا ہے كہ اقتصادی وسائل كے مقابلہ میں آبادی زیادہ ہے۔ لیكن محض افراد كی تعداد كی كثرت ہی افراط آبادی كی علامت نہیں۔ یعنی یہ كہنا درست نہ ہو گا كہ گنجان آبادی والے علاقوں كے لوگ لازمی طور پر اقتصادی طور پر مفلوك الحال ہوں گے یا یہ كہ كم آبادی والے ممالك كے لوگ ضرور خوشحال ہوں گے۔ درحقیقت اقتصادی خوشحالی كے سلسلہ میں صرف آبادی كی كمی یا زیادتی ہی معیاری اصول نہیں۔ بلكہ دوسرے عوامل كو بھی نظر انداز نہیں كیا جا سكتا۔

جاپان اور مغربی یورپ كے بیشتر ممالك كے لوگ معاشی طور پر خوشحال ہیں۔ حالانكہ بیشتر ترقی پذیر ممالك كے مقابلہ میں یہ ممالك كافی گنجان آباد ہیں۔ جب كہ دوسری طرف كئی كم گنجان آباد ممالك كے لوگ مفلوك الحال ہیں۔ اس كی واضح مثال متعدد ایشیائی و افریقی ممالك ہیں۔ اس وقت پاكستان میں آبادی كی گنجانی كا تناسب 349 افراد فی مربع كلو میٹر ہے۔ جب كہ فی كس آمدنی661روپے سالانہ ہے۔ اس كے مقابلہ میں بیلجیم پاكستان سے تقریباً چھ گنا زیادہ گنجان آباد ہے۔ جب كہ فی كس آمدنی پاكستان كے مقابلہ میں دس گنا زائد ہے۔ 1990-91ئ كے دوران افرادی قوت كا اندازہ 22.81 ملین تھا جس میں سے 21.78 ملین بر سر روزگار ہیں۔ اس طرح بے روزگاری كی شرح 20.13فیصد ہے۔

در حقیقت كسی ملك میں افراط آبادی كا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب كہ ملك كی آبادی وہاں كے مسائل سے بڑھ جائے۔ یعنی ملكی وسائل آبادی كی پوری طرح كفالت نہ كریں۔ لیكن اگر لوگوں كا معیار زندگی بلند ہے تو اس قسم كے ملك كو افراط آبادی كا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ یورپ كی صنعتی ترقی كے باعث وہاں كے عوام كا معیار زندگی بلند ہے۔ لہٰذا گنجان آبادی كے باوجود یورپی ممالك كو افراط آبادی كا مسئلہ درپیش نہیں۔ بلكہ ماضی میں بیشتر یورپی ممالك ایشیائی ممالك سے وارد ہونے والے لوگوں كی حوصلہ افزائی كرتے رہے ہیں۔

پاكستان كے اقتصادی حالات كو مدنظر ركھتے ہوئے یہ تسلیم كرنا پڑتا ہے كہ ہمارے ملك كو افراط آبادی كا مسئلہ در پیش ہے۔ ملك كی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جب كہ ملكی وسائل میں اسی رفتار سے ترقی نہیں ہو رہی۔ نتیجتاً لوگوں كا معیار زندگی پست ہے۔ فی كس آمدنی بہت قلیل ہے۔ ماہرین كی رائے كے مطابق اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا چلا گیا اور اقتصادی ترقی كے لیے كوئی انقلابی تبدیلیاں رونما نہ ہوئیں تو حالات بہت خطرناك رخ اختیار كر جائیں گے۔

اس وقت پاكستان میں آبادی كی گنجانی كا تناسب 349افراد فی مربع كلو میٹر ہے جب كہ فی كس آمدنی 492ڈالر ہے۔ بیروزگار افرادی قوت كا اندازہ 334 ملین افراد لگایا گیا ہے جو 7.82 فیصد كے قریب ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت كی شرح34.4 فیصد اور شہروں میں22.39 فیصد رہی۔ ہر سال تقریباً 10 لاكھ نوجوانوں كی نئی كھیپ حصول روزگار كے لئے تیار ہوتی ہے اور مزید بچوں كی تعداد اس كے علاوہ ہے جب كہ روزگار كے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔

2004ئ میں جاری اقتصادی جائزہ رپورٹ كے مطابق فی كس آمدنی526ڈالر سے بڑھ كر652ڈالر ہو گئی ہے۔

آبادی میں اضافہ كی وجہ سے تعلیم، روزگار اور صحت كے علاوہ ان شعبوں كی ترقی پر بھی تباہ كن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان میں آمدنی، افراط زر، رہائش، خوراك، موزوں غذائیت، زراعت اور جنگلات كے لیے زمین كی دستیابی، شہروں كی آبادی میں اضافہ، غربت، افلاس، وسائل كی كمی اور ماحولیات جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔ اگرچہ فی كس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً1988ئ میں یہ 350ڈالر كے مقابلہ میں1990-91ئ میں بڑھ كر401امریكی ڈالر ہو گئی۔ لیكن اس دوران افراط زر كی شرح میں دوگنا اضافہ ہو گیا جس سے آمدنی میں اضافہ بیكار ہو كر رہ گیا۔